Type Here to Get Search Results !

ارطغرل غازی کی حقیقی زندگی کی کہانی | Ertugrul Ghazi

آپ نےٹی وی سیریلز میں تو  ارطغرل غازی کے بارے میں بہت کچھ دیکھا اور جانا ہوگا لیکن وہ اپنی حقیقی زندگی میں کیسا تھا یہ بہت کم  لوگ جانتے ہیں۔  ہم  نے نئی و پرانی نسل کی آگاہی کے لئے ملت اسلامیہ کے اس عظیم کردار کی  اصل زندگی کے بارے میں یہ مضمون لکھا ہے جس میں  اس کے سکرین سے ہٹ کر حقیقی کردار کے بارے میں بتایا گیا ہے جسے جان کر آپ کو ارطغرل غازی  کی اصل کہانی  کے بارے میں سب کچھ پتہ چل جائے گا۔- تو آئیے جانتے ہیں

ارطغرل غازی کی حقیقی زندگی کی کہانی   اور اہم واقعات

Ertugrul Ghazi

ساتویں صدی ہجری ( تیرہویں صدی عیسوی ) کی ابتدا میں شاہان خوارزم کی قوت اوج شباب پر تھی ، وہ ایران دخراسان اور شام و عراق میں آل سلجوق کے بیش تر مقبوضات پر قابض ہو چکے تھے اور ایشیا کی تمام اسلامی سلطنتوں کو فتح کر لینا چاہتے تھے لیکن عین اس وقت جب وہ اس حوصلہ کی تکمیل کے لیے تیار ہور ہے تھے ، چنگیز خانی طوفان اپنی تمام ہول نا کیوں کے ساتھ اٹھا اور سلطنت حوارزم کو پاش پاش کر ڈالا ، اس سلطنت کی تباہی کے بعد تر کی قبائل جنوب کی طرف بھاگے ، ان میں بعض ایران اور شام میں پہنچے اور وہاں ساتھ میں اور آٹھویں صدی ہجری میں بہت کچھ اقتدار حاصل کیا اور ترکمانی مشہور ہوئے اور بعض جنوب کی طرف بڑھے اور مصر کے سلاطین مملوک سے معرکہ آرا ہوئے ، جوخودتر کی انسل تھے لیکن مصر میں انہیں شکست ہوئی اور وہاں سے واپس ہو کر وہ ایشیائے کو چک میں سلجوقیوں سے آملے

ارطغرل کا قبیلہ

ان ہی تر کی قبائل میں جو چنگیز خاں کے حملہ کے بعد اپنا وطن چھوڑ کر مارے مارے پھر رہے تھے ، ارطغرل کا قبیلہ بھی تھا ، یہ قبیلہ ترکان اوغوز کے قبیلہ کا ایک جز و تھا جوارطغرل کے باپ سلیمان شاہ کی سرکردگی میں اپنے وطن خراسان کو چھوڑ کر مختلف ملکوں میں گھومتا ہوا شام  کی طرف جار ہا تھا کہ اثنائے راہ میں دریائے فرات کو عبور کرتے ہوئے سلیمان شاہ ڈوب کر ہلاک ہو گیا ، قبیلہ کا بیش تر حصہ اس وقت منتشر ہو گیا لیکن جولوگ رہ گئے وہ  ارطغرل اور اس کے بھائی دوندار کے ساتھ ایشائے کو چک کی طرف روانہ ہوئے اور

تاتاریوں پر پہلا حملہ

سلطان علاءالدین سلجوقی کی سلطنت میں داخل ہو گئے ۔ پہلا معرکہ میں جماعت جوصرف چارسو بیس گھرانوں پر مشتمل تھی ، سلطان علاءالدین کے زیر سایہ پناہ لینے کے لیے پایتخت قونیہ کی طرف جارہی تھی کہ راستہ میں انگورا کے قریب ارطغرل کو دوفو جیں مصروف جنگ نظر آئیں ، وہ کسی فریق سے واقف نہ تھالیکن یہ دیکھ کر کہ ان میں سے ایک تعداد کے لحاظ سے کم زوراور دوسری قوی ہے ، اپنے سواروں کے مختصر دستہ کے ساتھ جن کی مجموعی تعداد صرف چارسو چوالیس تھی ، کم زورفریق کی حمایت کے لیے بڑھا اور اس جاں بازی سے حملہ آور ہوا کہ دشمن کو میدان چھوڑ کر بھا گنا پڑا ، فتح حاصل کرنے کے بعد اسے معلوم ہوا کہ جس فریق کی اس نے یوں بروقت مدد کی تھی ، وہ سلطان علاء الدین سلجوقی کی فوج تھی ، جسے تا تاریوں کی ایک بڑی فوج نے گھیر رکھا تھا ۔

سلطان علاءالدین نےارطغرل کو جاگیر   انعام میں دی

ارطغرل کے اس کارنامہ کے صلہ میں سلطان علاءالدین نے اسے سغوت کا زرخیز علاقہ جو دریاۓ سقاریہ کے بائیں جانب بازنطینی سرحد کے قریب واقع تھا ، جا گیر میں عطا کیا اورسغوت کا شہر بھی اسے دیا ، اس علاقہ میں ارطغرل اوراس کے ساتھیوں نے ، جو خراسان اور آرمینیا سے آئے تھے ، بودوباش اختیار کی ، علاءالدین نے ارطغرل کو اس جاگیر کا سپہ دار بھی مقرر کیا ، چوں کہ ارطغرل کی جا گیر بازنطینی سرحد سے متصل واقع تھی ، اس لیے بازنطینی قلعہ داروں سے اکثر جنگ کی نوبت آتی رہتی تھی ، ارطغرل نے تھوڑے ہی دنوں میں اپنی شجاعت کا سکہ بٹھا دیا اور اس کی فتوحات کا یہ اثر ہوا کہ بہت سے تر کی قبائل ایشائے کو چک میں پہلے سے آباد تھے ، اس کے ساتھ شامل ہوتے گئے اور اس کی لڑائیوں میں شریک ہونے لگے ، اس طرح اس کی قوت روز بروز بڑھتی گئی اور اس کا اقتدار گرد و پیش کے علاقوں میں قائم ہونے لگا ۔ سلطان علاءالدین کے لیے ایک جاگیر دار کا اس طرح قوت واقتدار حاصل کر لینا

تشویش کا باعث ہوتا لیکن ایشیائے کو چک میں دولت سلجوقیہ اندرونی اختلال اور امراء کی بغاوتوں کے سبب زوال کی آخری منزل میں تھی ، اگر چہ قونیہ میں سلاجقہ روم کی قدیم شان و شوکت اب بھی نمایاں تھی تا ہم حکومت کا دائرہ بہت محدودرہ گیا تھا ، ایک طرف تا تاریوں نے جنوبی اور مشرقی علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا تو دوسری طرف عیسائیوں نے شمال اور مشرق کے قدیم بازنطینی صوبوں کے اکثر حصے واپس لے لیے تھے ، وسطی اور جنوبی حصہ میں متعددسلجوقی سرداروں نے خود مختار حکومتیں قائم کر لی تھیں سرحدی علاقوں میں جنگ کا سلسلہ عموماً جاری رہتا تھا اور تا تاری حملوں کا خطرہ بھی دور نہیں ہوتا تھا ، ایسی حالت میں ارطغرل جیسے دلیر سر دار اور نائب کی فتوحات سے علاءالدین کو بجائے تشویش کے ایک گونہ اطمینان نصیب ہوا اور اس نے ارطغرل کو مزید انعامات عطا کیے ، چنانچہ جب نبی شہر اور بروصہ کے درمیان ایک جنگ میں ارطغرل نے علاء الدین کے نائب کی حیثیت سے تا تاریوں اور بازنطینیوں کی ایک متحدہ فوج کو شکست دی تو سلطان نے اس کے صلہ میں اس کے شہر کوبھی اس کی جاگیر میں دے دیا اور پوری جا گیر کا نام سلطانونی ( صدرسلطانی ) رکھا ، نیز ارطغرل  کو اپنے مقدمہ انجیش کا سپہ سالار مقرر کیا ، اس وسیع علاقہ میں بکثرت چراگا ہوں اور زرخیز زمینوں کے علاوہ متعدد قلعے بھی تھے ، مثلا قراجہ حصار ، بلے جیک ، انینی وغیرہ لیکن سلطانونی کے اکثر حصوں پر خودسر امیروں کا قبضہ تھا اور اس جا گیر پر اپنا تسلط قائم کرنے کے لیے ارطغرل اور اس کے بعد عثمان کو مدتوں جنگ کرنی پڑی ، ہلال سلطان علاء الدین کے علم کا نشان تھا ، ارطغرل نے بھی اس کے نائب کی حیثیت سے اس نشان کو اختیار کیا جو آج تک ترکوں کی عظمت کا قومی نشان ہے

۔ 1288 ہجری  ارطغرل غازی نے نوے سال کی عمر میں انتقال کیا اور سغوت کے قریب دفن ہوا ۔ 

قبر کھولی تو ایسا کیا نظر آیا کہ سب کی آنکھیں پھٹی رہ گئیں 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Top Post Ad

Below Post Ad

Hollywood Movies